| اول سب سے ذات ہے اس کی، ہر اک شے سے قدیم ہے وہ |
| ہر مخلوق فنا ہو گی بس باقی رہے گا عظیم ہے وہ |
| کچھ بھی نہیں مقصد سے خالی، اس کی بنائی دنیا میں |
| ہر تخلیق میں حکمت اس کی، سب سے بڑا حکیم ہے وہ |
| پالنے والا ہے وہ جہاں کا اس کے پاس خزانے ہیں |
| نافرمان کو بھی دیتا ہے رب عالم کا کریم ہے وہ |
| اس کی ذات کرم کا منبع ہم تو خطا کے پتلے ہیں |
| رحم کرے مخلوق پہ اپنی، ماں سے زیادہ رحیم ہے وہ |
| بھرے رہیں گے اس کے خزانے، دونوں جہاں پہ لٹا کے بھی |
| اس کی نعمتیں جس کو عطا ہوں، اس دنیا میں نعیم ہے وہ |
معلومات