کیا عمر رسیدہ تھی کوئی آرزو دل میں
جھری بھرے گالوں پہ ڈھلکنے لگے آنسو
کس کے لیے دل دھڑکا کہ دھڑکن بھی ہے بیخود
کس کے لیے روئے کہ بلکنے لگے آنسو
اشکوں کی ہی رم جھم سے ہیں اس دل میں بہاریں
یادوں کے تنفس سے مہکنے لگے آنسو
وعدے کی لپ اسٹک چڑھی حسرت کے لبوں پر
امید کے غازے سے چمکنے لگے آنسو
لے ہے ترے خاموش لبوں کی بھی غزل میں
نشہ ہے ترے غم کا بہکنے لگے آنسو
ہم نے تو انہیں ضبط کی ٹھنڈک میں رکھا تھا
کس آگ میں یارب یہ دہکنے لگے آنسو
ثانی ارریاوی

0
5