دل کو یادوں سے تری کچھ یوں بہلا لیتے ہیں
شبِ تنہائی میں محفل دل سجا لیتے ہیں
درد جب حد سے گزر جائے تو تنہائی میں
اشک پلکوں کی تہوں میں ہی چھپا لیتے ہیں
تیری تصویر سے کرتے ہیں کئی باتیں ہم
یوں ترے ہجر کا کچھ قرض چکا لیتے ہیں
کرن امید جب آتی نہیں میرے دل تک
ہم چراغِ دلِ بےتاب جلا لیتے ہیں
دل کے زخموں کا تماشا نہیں کرتے سرِ عام
اپنی آہوں کو تبسم میں چھپا لیتے ہیں
تیری خوشبو جو کبھی بادِ صبا لاتی ہے
ہم تصور میں تجھے پاس بُلا لیتے ہیں
لوگ پوچھیں جو مری آنکھ میں ویرانی ہے کیوں
تیرے قصے کو ہم افسانہ بنا لیتے ہیں
ہم کو آتا ہے اندھیروں میں بھی جینے کا ہنر
چاند ناں نکلے تو ہم دل کو جلا لیتے ہیں
جب بھی تنہائی میں آواز تری آتی ہے
دل کے ویران دریچوں کو سجا لیتے ہیں
تُو میسر نہیں ہوتا تو تری یاد سہی
ہم اسی بات پہ دل اپنا منا لیتے ہیں
عشق میں ہار بھی جائیں تو شکایت کیسی
ہم تری جیت کو انعام بنا لیتے ہیں
حسن دنیا سے چھپاتے ہیں محبت اپنی
اور غزل کہہ کے زمانے کو سنا لیتے ہیں

0
3