| لبوں پر ہر گھڑی اپنی دعا کی داستاں رکھنا |
| مصیبت میں یہی کام آئے گی، یہ تم گماں رکھنا |
| انا کی دھوپ میں رشتے ہمیشہ سوکھ جاتے ہیں |
| محبت کا مگر تم سر پہ اپنے سائباں رکھنا |
| اگر رستے میں رک جاؤ، کبھی تھکنے لگو جو تم |
| مرے کاندھے پہ سر اپنا، مری جاں مہرباں رکھنا |
| تکبر تو فقط اک بوجھ ہے جو توڑ دیتا ہے |
| عجب ہے پھر بھی کیوں سر پر یہ جھوٹا آسماں رکھنا |
| خدا کے سامنے رونا تمہیں طاقت عطا ہوگی |
| وہیں اپنی ضرورت کا تم اب ہر اک بیاں رکھنا |
| کوئی آواز دے تم کو تو فوراً دوڑ کر جانا |
| درِ اخلاص کو تم ہر مسافر پر بھی واں رکھنا |
| جہاں نیکی کی خوشبو ہو، وہیں منزل ملے گی اب |
| سفر کے واسطے اپنا یہی تم اک نشاں رکھنا |
معلومات