| نہ ہو گی اب کوئی حسرت تمام ہونے کی |
| نہیں ہے تیرہ شبی اختتام ہونے کی |
| ۔ |
| یہ سب اثر ہے محبت میں ڈھیل کا ، ورنہ |
| مجال دل کی تھی کب بے لگام ہونے کی؟ |
| ۔ |
| درونِ قصہ ہے کردار اک ابھی تشنہ |
| ابھی نہیں یہ کہانی تمام ہونے کی |
| ۔ |
| ہے بے تکلفی تو بات دور کی اے دوست ! |
| مجال اپنی نہیں ہم کلام ہونے کی |
| ۔ |
| دلوں میں ڈال رہا ہے تو وسوسے واعظ! |
| دلیل کیا ہے محبت حرام ہونے کی؟ |
| ۔ |
| مدثر ایک تو تکلیف ہے بچھڑنے کی |
| دُوَم یہ قصہ لبِ خاص و عام ہونے کی |
معلومات