ہے بظاہر فتور آنکھوں کا
کچھ اثر ہے ضرور آنکھوں کا
یہ جو ہر سو دکھائی دیتا ہے
ہے یہ سارا شعور آنکھوں کا
خواب ہم کو جگا کے دکھلائے
بس یہی ہے قصور آنکھوں کا
ایسی آنکھیں ہمیں میسر ہیں
ہاں ہمیں ہے غرور آنکھوں کا
بند آنکھوں سے کیا دکھائی دے
کچھ تو کیجے حضور آنکھوں کا
آگہی کا نشہ الگ ہی ہے
کس قدر ہے سرور آنکھوں کا
دل ہی تاریک ہو اگر سعدی
کیا کرے گا یہ نور آنکھوں کا
#سعید_سعدی 15-02-2026

0
3