| حسنِ بے پروا نے اب تو کر دیا ہے رائیگاں |
| ہر ورق پر عشق نے لکھ دی تھی جس کی داستاں |
| روئے زیبا کی بہارِ ناز سے حیراں چمن |
| پھول پر شبنم گری یا ہنس پڑا وہ مہرباں |
| وہ نگاہِ مست جس میں سو گیا ہے اک جہاں |
| جس کے آگے ہیچ ہے تاروں بھری یہ کہکشاں |
| زلفِ مشکیں کی سیاہی جیسے ساون کی ہو رات |
| مل گیا جس کے تلے اب خستہ دل کو آستاں |
| سبک گاموں کا خرامِ ناز، وہ رفتارِ خم |
| بہتے جھرنے کی طرح ہے رقصِ موجِ شادماں |
| جب لبِ نازک سے ٹپکے شہد جیسی گفتگو |
| یوں لگے جیسے ہوا میں پھول ہیں کچھ نغمہ خواں |
| رخ پہ عارض کی گلابی، صبحِ گلشن کا نکھار |
| جیسے سورج سے کوئی شبنم ہوئی ہو ہم زباں |
| جھیل کے پانی پہ جب لہرائی اس قامت کی لو |
| بن گئی خاموش شب بھی اس حیا کی رازداں |
| تیری خوشبو سے معطر ہے نسیمِ صبح دم |
| تیرے بن بے رنگ ہے اب ہر گلِ باغِ جہاں |
| راہِ الفت میں لٹا کر دل کا ہر اک ولولہ |
| تیرے قدموں میں ہی پائے خلد خالد آسماں |
معلومات