| اس نور کی وادی کے ذروں میں اُجالا ہے |
| برکھا ہے یہاں نوری ہر جلوہ نرالا ہے |
| کونین درخشاں ہے انوارِ مدینہ سے |
| اس شہرِ منور پر اک نور سے ہالہ ہے |
| سلطان بھی دیکھو گے سائل ہیں مدینے میں |
| جو دان ملے اس جا ہر حال میں اعلیٰ ہے |
| جس حُسنِ خدائی کا ثانی نہ ہوا پیدا |
| والیل حسیں زلفیں کمبل ہے جو کالا ہے |
| آ جائے سوالی جو دربار میں دلبر کے |
| اس بندے کے قسمت کو پھر خیر سنبھالا ہے |
| آ جائیں مدینے میں جاگیں گے مقدر بھی |
| گو نامے میں ہر خانہ اعمال سے کالا ہے |
| اے حسنِ جہاں آرا دارین سجے تجھ سے |
| تو خلق میں محسن ہے اخلاق میں بالا ہے |
| محمود سخی در پر عاجز ہے غلاموں میں |
| گہنہ جو سجا اس پر سرکار کی مالا ہے |
معلومات