اس نور کی وادی کے ذروں میں اُجالا ہے
برکھا ہے یہاں نوری ہر جلوہ نرالا ہے
کونین درخشاں ہے انوارِ مدینہ سے
اس شہرِ منور پر اک نور سے ہالہ ہے
سلطان بھی دیکھو گے سائل ہیں مدینے میں
جو دان ملے اس جا ہر حال میں اعلیٰ ہے
جس حُسنِ خدائی کا ثانی نہ ہوا پیدا
والیل حسیں زلفیں کمبل ہے جو کالا ہے
آ جائے سوالی جو دربار میں دلبر کے
اس بندے کے قسمت کو پھر خیر سنبھالا ہے
آ جائیں مدینے میں جاگیں گے مقدر بھی
گو نامے میں ہر خانہ اعمال سے کالا ہے
اے حسنِ جہاں آرا دارین سجے تجھ سے
تو خلق میں محسن ہے اخلاق میں بالا ہے
محمود سخی در پر عاجز ہے غلاموں میں
گہنہ جو سجا اس پر سرکار کی مالا ہے

0
1
8
خلاصہ

یہ نعتیہ کلام مدینۂ منورہ کی روحانی عظمت، حضورِ اکرم ﷺ کے نور، حسن، اخلاقِ کریمانہ اور فیضِ نبوت کا دل آویز بیان ہے۔ شاعر مدینہ کو نور و برکت کی وادی قرار دیتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ اس کی ہر شے انوارِ مصطفیٰ ﷺ سے منور ہے۔ کلام میں یہ عقیدہ نمایاں ہے کہ حضور ﷺ کے دربار سے وابستگی انسان کی تقدیر سنوار دیتی ہے، گناہگار بھی رحمتِ نبوی ﷺ سے امیدِ بخشش پاتا ہے، اور حقیقی عزت و سعادت اسی درِ اقدس کی غلامی میں ہے۔ اختتامی شعر میں شاعر اپنے تخلص "محمود" کے ساتھ نہایت عاجزی سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا اعزاز حضورِ اکرم ﷺ کی محبت، نسبت اور غلامی ہے، جو اس کے لیے دنیا و آخرت کی سب سے قیمتی زینت ہے۔

0