| ملتی ہے زندگی بھی یہاں زندگی کے بعد |
| ملتا نہیں ہے چین مگر عاشقی کے بعد |
| رکتا ہے دل یہیں یہ ہے محبوب کا مقام |
| آگے قدم بڑھے گا نہیں اس گلی کے بعد |
| پی لیں جناب من یہ شراب طہور ہے |
| پاتے ہیں ہوش سب ہی یہاں میکشی کے بعد |
| پہلے تو دل لگائیں گے اپنا بنائیں گے |
| بھولیں گے تجھ کو لوگ یہاں دل لگی کے بعد |
| تھوڑا سا صبر یار یہ موسم بدل تو جائے |
| پھوٹے گی پؤ یہیں سے ذرا سی نمی کے بعد |
| لہجہ سنبھال یار کی شرمندگی نہ ہو |
| ہو جائے دوستی بھی اگر دشمنی کے بعد |
| ہوتی ہے دوستوں یہاں پانی کی قدر بھی |
| پانی ہو دستیاب اگر تشنگی کے بعد |
| کس کام کی ہے پھر یہ دکھاوے کی روشنی |
| باقی ہو تیرگی بھی اگر روشنی کے بعد |
معلومات