یہ کیسا دور آیا ہے
کے آوازیں تو گونجی ہیں
مگر الفاظ ہیں خالی
نہ باتوں میں صداقت ہے
نہ رشتوں میں رفاقت ہے
حیا بھی اب نہیں باقی
سکولوں کالجوں میں بھی
نگاہیں اب بے پردہ ہیں
حیا کا نام گویا اب
زمانے سے مٹایا ہے
کے وحشت اور فحاشی کو
سبق جیسا بنایا ہے
جواں ہر سو بھٹکتا ہے
نا رہبر نا دِیا کوئی
لبوں پر دین کی باتیں
عمل میں ہے وفا کوئی
ہر اک چہرہ ہے روشن پر
اندھیرے سے بھرا کوئی
کتابِ حق کُھلی ہے پر
نہ اس کو اب پڑھا جائے
دلوں پر خواہشِ دنیا
کا جادو سر چڑھا جائے
مسلماں اب نہیں ویسے
جو دیں پر جان دیتے تھے
یہ دنیا میں مگن ہو کر
فنا کو بھول بیٹھے ہیں
خدا کو بھول بیٹھے ہیں

0
1