خاکِ راہِ شہرِ جاناں، دل کا ارماں ہو گئی
پھر وہی مٹی گلے کا، طوقِ ہجراں ہو گئی
شور تھا مٹی میں ملنا، ایک دن سب کو یہاں
وہ مگر نتھنوں کے رستے، داخلِ جاں ہو گئی
رقص کرتی تھی جو ہر سو اک بگولے کی طرح
سانس کی نالی میں آ کر، وہ غزل خواں ہو گئی
جس کو ماتھے کا سمجھ کر صندلِ جاں ہم لکھے
وہ دو ہفتوں تک وہی "سیرپ" کا ساماں ہو گئی
پی لیے "کاوے" کئی، چائے بھی کافی بھی پی لی
پھر بھی مٹی کی محبت، دردِ پنہاں ہو گئی
پھیپھڑوں میں جا کے بیٹھی جب وطن کی وہ شمیم
ایک عادت، زندگی کی بس، وہ طوفاں ہو گئی
پوچھتے ہیں اب سبھی بدلے ہوئے لہجے کا راز
کیا کہیں آواز مٹی میں غزل خواں ہو گئی
اب کے جاؤں گا تو چہرے پر لگا کر ماسک اب
اب کی بار اس دھول سے توبہ مری جاں ہو گئی
گرچہ بیٹھا ہے گلہ، آواز بھی گدلی ہوئی
پھر بھی عادلؔ خاکِ طائف، فخرِ دوراں ہو گئی

0
5