| کتابوں کی خوشبو سہانی رہے |
| نئی فکر میں بھی روانی رہے |
| کتابوں سے رشتہ بھی باقی رہے |
| قلم کی صدا جاودانی رہے |
| نیا عہد ہے، علم کی راہ پر |
| مگر فکر میں بھی جوانی رہے |
| مشینوں سے حاصل ہو دانش مگر |
| دلوں میں محبت سہانی رہے |
| کتابوں کو رکھ لیں شریکِ سفر |
| یہ تہذیب اپنی نشانی رہے |
| کھُلے علم کا دَر، بڑھے آگہی |
| دلوں میں سدا ضوفشانی رہے |
| جہاں بھی ہو جاویدؔ علم و ہنر |
| نہ کوئی لگن رائیگانی رہے |
معلومات