| جاں کی بازی لگ گئی ہے، جاں ہی ہم نے ہاری ہے |
| سر کی بازی ہے یہاں تو، جاں ہی سب کو پیاری ہے |
| اب عبث تکرار کرنا اس بدلتے روپ پر |
| کھیل یہ بالکل نیا ہے، گردشِ دوراں جاری ہے |
| سالِ نو لایا ہے گلشن میں وہی دیرینہ غم |
| اس نے محفل میں مگر چھب پھر سے وہ اتاری ہے |
| بوجھ سنگینِ الم کا ہٹنے کے نزدیک ہے |
| ہو سبک اب روح، جاں کی یہ طبیعت بھاری ہے |
| راہِ الفت میں سنبھالے کون اس بنجارے کو |
| خوں کی لکیریں ہیں رِستیں، خواری ہی بس خواری ہے |
| شاید اب خاکیؔ کے دل میں اک رمق باقی رہی |
| لب پہ ہے ذکرِ صنم اور لرزہ دل پہ طاری ہے |
معلومات