| پاس بیٹھو کہ دل سنبھل جائے |
| کیا خبر، کل یہ وقت ٹل جائے |
| بات نکلے گی پھر جدائی کی |
| شمعِ محفل ابھی نہ جل جائے |
| تجھ کو پایا ہے کتنی مدت میں |
| یوں نہ لمحہ کوئی نکل جائے |
| روک لو اس حسین ساعت کو |
| دیکھنا! رات ہی نہ ڈھل جائے |
| تیرے جانے سے جان جاتی ہے |
| موم کا دل نہ اب پگھل جائے |
| زندگی بس یہی تو گھڑیاں ہیں |
| ورنہ پھر ہاتھ کیا ملل جائے |
معلومات