آپ کو تھوڑی فرصت ہو تو بات کریں
اک دوجے پر ظاہر ہم جذبات کریں
عشق سکھا دیں اس کو لیکن سوچتے ہیں
پیش اسے کیوں درد کی ہم سوغات کریں
دونوں میں سے ایک ہی کام کی فرصت ہے
عشق کریں یا ہم بہتر حالات کریں
دید کی بھیک عطا ہو ہم مسکینوں کو
حسن بڑھے گا اور بھی گر خیرات کریں
ہم پردیس میں درد سہیں اور آپ یہاں
ہجر کی رُت میں اشکوں کی برسات کریں

0
3