حالات ہیں خراب یوں دھرنے نہ دیجیے
کلیاں کھلی ہیں باغ میں مرنے نہ دیجیے
اپنی انا کے واسطے لڑتے ہیں جو، انہیں
بدنام نام دین کا کرنے نہ دیجیے
غدار ہیں جو زر کے پجاری ہیں حکمراں
ان کو جڑیں وطن کی کترنے نہ دیجیے
خادم سبھی چمن کے بنے ہیں برائے نام
خدمت سے خادموں کو مکرنے نہ دیجیے
رکھیے نظر وطن کے خزانے پہ خود، انھیں
جیبیں وطن کے مال سے بھرنے نہ دیجیے
ایک پرانی تحریر

0
3