| عشقِ حبیبِ رب کی دولت ملے مجھے |
| ذکرِ کریم میں ہی راحت ملے مجھے |
| آنے کو چاہے یہ دل دارِ رسول پر |
| سرکار کے کرم سے ہمت ملے مجھے |
| نغماتِ دلربا سے سینہ سجا رہے |
| ہر کارِ خیر کی بھی طاقت ملے مجھے |
| بردہ حبیبِ سرور عاجز رہے سدا |
| مجلس میں حاضری کی نعمت ملے مجھے |
| بارِ دگر میں دیکھوں روضہ حبیب کا |
| یہ بار بار مولا لذت ملے مجھے |
| دے گھر کریم داتا شہرِ حبیب میں |
| کوئی سکونِ دل کی صورت ملے مجھے |
| محمود دل سے اپنے نکلے یہی دعا |
| بابِ نبی پہ دائم راحت ملے مجھے |
معلومات