| طاقت ملی تو چہرے بدلنے لگے ہیں لوگ |
| فرعونیت کے پرتَو سے دکھنے لگے ہیں لوگ |
| جو ناتواں فرشتہ صفت لگ رہے تھے وہ |
| قوّت ملی تو گُرگ خُو بننے لگے ہیں لوگ |
| لوگوں کے ظرف کا مجھے ادراک تب ہوا |
| جب اختیار پاتے ہی ڈسنے لگے ہیں لوگ |
| دل میں جو ہے لبوں پہ گر آئے تو دیکھنا |
| اک دوسرے کی نظروں سے گرنے لگے ہیں لوگ |
| جن کو قدم اٹھانے کا نا کچھ سلیقہ ہے |
| سالار بن کے وہ بھی نکلنے لگے ہیں لوگ |
| وہ جو دیا وفا کا جلاتے ہوے مرے |
| زندوں میں صرف ان کو ہی گننے لگے ہیں لوگ |
| سچ بولنے کی سچوں کو اُجرت ملی ہے یہ |
| محفل سے ایسے لوگوں کی اُٹھنے لگے ہیں لوگ |
| میں نے تو دل کی بات کو دل میں ہی رکھا تھا |
| لفظوں کے تیر مجھ پہ ہی کسنے لگے ہیں لوگ |
| اپنوں کی گرم جوشی تو دھوکا رہی سدا |
| بدلا جو وقت اپنے ہی ڈسنے لگے ہیں لوگ |
معلومات