دنیا کی یہ عارضی سی زندگانی ہے کیا؟
دل میں ہے خوف خدا تو حکمرانی ہے کیا؟
مال و زر کی چاہ میں کھو کر نہ رہ جانا کہیں
حرص کی اس آگ میں یہ کامرانی ہے کیا؟
قبر کی تنہائیوں کو یاد رکھنا ہر گھڑی
غفلتوں میں ڈوب کر یہ شادمانی ہے کیا؟
ذکرِ حق سے دل کو اپنے تم منور کیجیے
نفس کے چنگل میں تیری یہ جوانی ہے کیا؟
عشقِ مولیٰ میں مٹا دو اپنی ہستی کو عتیقؔ
خود پرستی سے نکل کے دیکھ سلطانی ہے کیا؟

0
5