| ہو نہ میری چشم تر کیوں تجھے دیکھ کیوں نہ برسے |
| اسے مل گیا ہے عالم جسے دیکھنے کو ترسے |
| یہ نگاہ شوق میری تری منتظر ہے کب سے |
| تری راہ تک رہا ہوں شب و روز چشمِ تر سے |
| تو نہیں ہے مجھ کو حاصل یہی غم ستا رہا ہے |
| مجھے چاہۓ رہائی ابھی گنبدِ بے در سے |
| میں تری تلاش میں ہوں، دے کوئی سراغ مجھ کو |
| ہو گیا ہے اک زمانہ مجھے نکلے اپنے گھر سے |
| یہ نہیں ہے وہَم میرا یہ کوئی گماں نہیں ہے |
| یہ مہک بتا رہی ہے ابھی گزرے ہو ادھر سے |
| یہ وہ دشت ہے کہ جس میں نہ ملے کوئی دوبارہ |
| نہ لگاؤ آس عشیار یہاں تم کسی بشر سے |
معلومات