یہیں رہنا
ابھی کچھ دیر مرے ساتھ یہیں رہنا
جب یہ شہر
اپنے دروازے بند کر کے
اپنی آہٹ سے بھی ڈرنے لگے
جب گلی گلی
بجھے بلبوں کی زرد آنکھوں میں
رات جمتی رہے
جب کسی دور کے کمرے میں
اچانک کوئی دروازہ بجے
اور پھر دیر تلک
کوئی قدم نہ سنائی دے
جب ہوا
خالی دریچوں سے گزر کر
کسی بھولی ہوئی آواز کی طرح
کانپنے لگے
جب گھڑی
ایک ہی لمحہ
بار بار بجائے
اور دیوار پہ سایہ
آدمی سے بڑا ہو جائے
تب نہ سمجھانا مجھے
صبح کی کوئی دلیل نہ دینا
میرے ہاتھوں میں
کوئی خواب بھی مت رکھنا
بس خاموش بیٹھے رہنا
اتنا قریب
کہ خاموشی بھی
اکیلی نہ لگے
کچھ راتیں
باتوں سے نہیں کٹتیں
کچھ دروازے
لفظوں سے نہیں کھلتے
کچھ اندھیرے
صرف اتنا چاہتے ہیں
کوئی ہاتھ
ہاتھ سے جدا نہ ہو
کوئی آواز
اچانک بند نہ ہو
اور کوئی
رات کے دوسری سمت پہنچنے تک
وہیں رہے
یہیں رہنا
ابھی کچھ دیر
مرے ساتھ یہیں رہنا

0
4