| زمین و زماں کو سجایا گیا ہے |
| مقدر جہاں کا بنایا گیا ہے |
| تھے آراستہ جب چمن اس دہر کے |
| یہاں پھر حسیں کو بلایا گیا ہے |
| ہے پھیلی خلق میں گراں دھوم ہر جا |
| درودِ نبیؐ یہ سنایا گیا ہے |
| جہاں میں جو ملتا عجب غلغلہ ہے |
| ورودِ نبی کو منایا گیا ہے |
| سنے نامِ احمد کے ڈنکے زماں نے |
| ذکر مصطفیٰ کا کرایا گیا ہے |
| رسولوں کے بابا کی آقا دعا ہیں |
| جنہیں لعلِ ہاشم بنایا گیا ہے |
| حلیمہ کی جاں ہیں پسر آمنہ کے |
| اُنہیں لامکاں بھی دکھایا گیا ہے |
| سجی گودِ ہستی انہی کے قدم سے |
| زمانہ یوں جن سے چلایا گیا ہے |
| وہ نورِ نبی تھا جو اولیٰ خلق میں |
| وہ دنیا میں آخر بلایا گیا ہے |
| اے محمود دلبر نبی مصطفیٰ ہیں |
| نبی کا ہی دشمن مٹایا گیا ہے |
معلومات