کلی کی اوٹ میں چُپ چاپ شبنم پی کے جیتی ہے
خُدا کی اِک حَسیں رحمت، کرم کی اِک نظر بھی ہے
کبھی آندھی، کبھی بارش، کبھی سورج کی تیزی میں
سنبھالے اپنے خوابوں کو، بچاتی اپنا گھر بھی ہے
یہی معصوم سی تتلی مجھے بیٹی سی لگتی ہے
دُعا بھی، مُسکراہٹ بھی، مَحَبّت کی خبر بھی ہے
اگر اِس کے پروں کو قید کر دو، رنگ مر جائیں
یہی باغوں کی زینت ہے، بہاروں کا حُسن بھی ہے
گھروں کی رونقیں اِن سے، دلوں کی دھڑکنیں اِن سے
یہی تاروں کی رونق ہیں، اِنہی سے پھر سَحر بھی ہے
کبھی کم تر نہ سمجھو تم، یہی تو اصل طاقت ہیں
یہی تَہذیب کی خوشبو، یہی صُبحِ دِگر بھی ہے
یہ تتلی یاد رکھنا تم، فقط منظر نہیں ساگر
یہ ماں کی اِک دُعا بھی ہے، یہ بابا کا فَخر بھی ہے

0
6