سنو
مری جان اک بات کہنی ہے تم سے
مرا دل کہیں کھو گیا ہے
ملے تو بتانا
کسی نے کہا ہے
تمھاری گلی میں وہ دیکھا گیا ہے
تمھاری گلی سے محبت تھی اس کو
وہ شاید وہیں بھاگ نکلا
وہ ایسا ہی کرتا ہے اکثر
تمھاری طلب میں مگن ہے وہ ہر دم
ہے مشتاق وہ بس تمھاری نظر کا
ملے تو بتانا
اگر ہو سکے تو گلے سے لگانا
سنو!
دھڑکتا ہے وہ نام سن کے تمھارا
شب و روز رہ دیکھتا ہے تمھاری
تمھاری گلی کی وہ لپٹا ہو گا خاک سے
وہ اکثر ایسا ہی کرتا ہے
سنو
تمھارے بس اک لمس کا منتظر رو رہا ہوگا شاید
ملے تو اسے تم اٹھانا
اسے نرم ہاتھوں سے بس تھپ تھپانا
خیال اس کا رکھنا
خیال اس کا رکھنا
کبھی تو وہ دل میرا ہی تھا
مگر اب تمھارا ہوا
خیال اس کا رکھنا
خیال اس کا رکھنا

0
1