گر گیا اک سہارا تو میں رو دیا
مجھ کو غم نے پکارا تو میں رو دیا
"میں نے بے کار سمجھا ہوا تھا تجھے"
اس نے طعنہ یہ مارا تو میں رو دیا
خواہشیں جو ادھوری تھیں پوری ہوئیں
دل سے پایا اشارہ تو میں رو دیا
کب سے کشتی بھنور میں پھنسی تھی مری
مل گیا جب کنارا تو میں رو دیا
وقت کے ساتھ رشتے بدلتے گئے
وقت نے بدلا دھارا تو میں رو دیا
حال پوچھا مرا اس نے، میں چپ رہا
اس نے پوچھا دوبارہ تو میں رو دیا
وقت اچھا تھا ماضی میں ڈوبا ہوا
یاد نے پھر ابھارا تو میں رو دیا

0
1