وفا کا رنگ مِرے دل میں بھر گیا کیسے
وہ اجنبی مِرے دل میں اتر گیا کیسے
ابھی تو پاؤں کے چھالوں کا غم منایا تھا
سفر نصیب تھا، رستوں پہ مر گیا کیسے
جسے خبر نہ تھی میرے تباہ حالِ کی
وہ میری آنکھ میں آنسو ابھر گیا کیسے
عجیب کشمکشِ ذات ہے کہ سوچتا ہوں
میں خود سے ٹوٹا تو پھر سے سنور گیا کیسے
وہ جس کے لمس سے جلتی تھیں یاد کی شمعیں
وہ ایک شخص یوں ایسے گزر گیا کیسے
نظر ملا نہ سکا جو کبھی مِرے آگے
وہ آج سامنے سے بے خبر گیا کیسے
عدو کے وار تو سہہ لیتا یہ مرا جیون
مگر یہ دوست کا خنجر اتر گیا کیسے
شکستہ حال تھا کشتی بھی تھی بھنور میں قید
خدا ہی جانے مِرا رخ سدھر گیا کیسے
عجیب موڑ پہ ہے داستانِ عشق مِری
وہ شخص جیت کے بھی سب بکھر گیا کیسے

0
3