رنگ و بو میں رہتی ہو، اپنی بُو میں رہتی ہو
تم تو پیار کی اپنی، پیاری خُو میں رہتی ہو
عطرِ جاں چھڑک کر تم، جب بھی پاس آتی ہو
دیر تک مرے دل کی، جستجو میں رہتی ہو
منتظر رہو تم گھر، ہم رہیں کہیں باہر
تم ہمیشہ دنیا کی، ہاؤ ہُو میں رہتی ہو
شہد جیسے لفظوں کی، آرزو ہے لیکن جو
تم تو بس مگر "میں میں"، "تو تو تو" میں رہتی ہو
آئنے کی صورت تم، سامنے جو آتی ہو
میری چشم و ابرو کی، گفتگو میں رہتی ہو

0
4