دل میں نئے ارمان لے کے آئے ہیں
اس زندگی میں جان لے کے آئے ہیں
ویران سی تھی زندگی میرے خدا
ہر طرح کے امکان لے کے آئے ہیں
اٹھ کر تری محفل سے جب بھی آئے ہیں
الزام اور بہتان لے کے آئے ہیں
سب نے بنایا ہے یہاں پر کچھ نہ کچھ
دنیا میں کیا انسان لے کے آئے ہیں
اولاد آدم کی ہے تو تفریق کیوں
سب مختلف پہچان لے کے آئے ہیں

1