| بہت سے لوگ ملے، کوئی ہم سبو نہ ملا |
| ہجومِ شہر میں اک شخص بھی نکو نہ ملا |
| ہزار چہرے ملے زندگی کی راہوں میں |
| مگر کسی میں ترا عکس ہو بہو نہ ملا |
| وہ عمر بھر مرے نزدیک بیٹھتا بھی رہا |
| مگر وہ شخص کبھی مجھ سے روبرو نہ ملا |
| تمام عمر زمانے سے گفتگو کی مگر |
| جو میرے درد کو سمجھے، وہ چارہ جو نہ ملا |
| تمام عمر تھا شاہدؔ کو اپنی ذات پہ ناز |
| خود اپنے آپ سے بڑھ کر کوئی عدو نہ ملا |
معلومات