ایک غنچہ تھا جو تھا بوئے سمن سرخ میں گم
ہو گئی رنگِ حنا دستِ دلہن سرخ میں گم
ہم نے دیکھی ہے عجب شانِ جنونِ بلبل
ہو گیا اڑتے ہی وہ رنگِ چمن سرخ میں گم
بات جب چھیڑی اس آفت نے مری وحشت کی
ہر تبسم ہوا اس کے ہی دہن سرخ میں گم
موت آئی تو چڑھا عشق کا وہ رنگِ جلیل
بختِ عاشق تھا مسیحائی کَفن سرخ میں گم
چاک تھا تیرہ شبی کا بھی کلیجہ اس دم
صبحِ نو کی ہوئی شبنم، ہے کِرن سرخ میں گم
تابِ نظارہ کہاں چشمِ تماشا کو مری
روحِ بسمل تھی عجب جلوۂِ تن، سُرخ میں گم
وہ جو مقتل کی طرف رقص کناں جاتے ہیں
ان کا رستہ ہے اسی دار و رسن سرخ میں گم

0
1