| ﷽ﷺ |
| جاری ہے دو سریٰ میں مدحت حضور کی |
| دوراں رکھے زماں کو شوکت حضور کی |
| کون و مکاں میں رہتیں اُن سے ہیں برکتیں |
| خلقِ خدا پہ دائم شفقت حضور کی |
| سدرہ نے پیر چومے آقا کریم کے |
| جانے خدا نبی کا عظمت حضور کی |
| قربان مصر زادی یوسف کو دیکھ کر |
| دیکھی خدا نے اصلی صورت حضور کی |
| جبریل چومے تلوا عزت مآب کا |
| ہے نوریوں کے دل میں چاہت حضور کی |
| منظور ہے عدو کو وعدہ رسول کا |
| پاکیزہ دیکھ کتنی فطرت حضور کی |
| غیروں کو بھی نوازیں وہ مشکلات میں |
| ہے اجنبی کے دل میں عزت حضور کی |
| غیرت جو دین کی ہے آلِ نبی میں دیکھ |
| قربان کربلا میں عترت حضور کی |
| اُن کے غلام سارے جائیں کے خُلد میں |
| اعمال جن کے سارے سیرت حضور کی |
| محمود دو جہاں میں دلبر کے راج ہیں |
| بردے کو کر دے مولا صحبت حضور کی |
معلومات