جہاں کا یہ دل جو درِ مصطفیٰ ہے
منور اسی سے دہر کی فضا ہے
محبانِ سرور رہیں شاد اس جا
کہ مقصودِ عشاق یہ ہی جگہ ہے
سوالی سخی کے ہیں مسرور ہر جا
غلامانِ دلبر پہ راضی خدا ہے
نہیں مال و دولت کی وہ حرص رکھتا
غنی جس کو کرتی نبی کی ثنا ہے
نبی کے ہیں سائل سلاطیں جہاں کے
شہنشاہ نوازے، نبی کا گدا ہے
درود آئے اُن پر سدا کبریا سے
سلامی نبی کو دہر کی ادا ہے
منور مدینہ نگینہ دہر کا
جو نورِ نبی سے فروزاں رہا ہے
ہے محمود راضی غلامی میں اُن کی
کہ فردوس اس کی درِ دلربا ہے

0