بلندی پر ہے وہ رتبہ مجدد الف ثانی کا
ولایت چومتی روضہ مجدد الف ثانی کا
شریعت کا علم اونچا کیا مجدد الف ثانی نے
بچایا دین کا طبقہ مجدد الف ثانی کا
مٹا کر ظلمتِ باطل جلایا دیپ ایماں کا
ہے اب بھی معترف دنیا مجدد الف ثانی کا
کسی جابر کے آگے سر جھکا پایا نہ دنیا نے
سدا وہ سر رہا اونچا مجدد الف ثانی کا
شہنشاہوں نے اپنے تاج کو قدموں میں رکھ ڈالا
مقامِ بندگی دیکھا مجدد الف ثانی کا
حقائق اور معارف کا خزانہ کھل گیا سب پر
قلم نے ہاتھ جب تھاما مجدد الف ثانی کا
مٹی بدعت، زمانے میں ہوئی پھر تازہ ہر سنت
بہا فیضان کا دریا مجدد الف ثانی کا
جہاں سے دور ظلمت کی مٹائی بدگمانی کو
ہوا احسان قدرت کا مجدد الف ثانی کا
اسیرِ قلعہ ہو کر بھی جو حق گوئی نہیں چھوڑی
تھا ایسا عزمِ مستانہ مجدد الف ثانی کا
خداوندا رہے قائم ہمیشہ فیض دنیا میں
تصوف کا ہے جو شعبہ مجدد الف ثانی کا
سجائے ہیں جو تو نے شاعری کے پیرہن میں گل
عقیدت سے یہ پر نغمہ مجدد الف ثانی کا

0
1