آئے وہ تذکرے میں حسن و جمال ہیں
ہر آن دل میں جن کے رہتے خیال ہیں
آیا ہوں اُن کے در پر اپنے گمان میں
روضہ نبی کے دیکھے منظر کمال ہیں
کتنی ہے دل اویزی ماحول میں یہاں
پورا یقیں ہے اس جا بی بی کے لال ہیں
وہ سبز سبز گنبد وہ جالیاں حسیں
آئیں جو فیض ان سے وہ لا زوال ہیں
اصحابِ صفہ کی جا کتنی ہے دل نشیں
بیٹھے کبھی جہاں پر آقا بلال ہیں
آئے ہجوم میں سب اُن کے غلام ہیں
لگتے ہیں اُن کے نوری جو خد و خال ہیں
دل شاد ہیں یہ سارے منزل ملی اُنہیں
بن مانگے پورے ہوتے اس جا سوال ہیں
محمود میرے آقا سلطانِ دو جہاں
ہستی میں رونقیں سب جن کے کمال ہیں

2