بس کرو اب یہ ستم بس کر دو
ظلم اپنوں پہ صنم بس کر دو
پھول کھلنے دو چمن میں اب تو
گل فروشوں پہ کرم بس کر دو
چاند ہو، دور اندھیروں سے رہو
نام کا رکھ لو بھرم، بس کر دو
ہجر کی آگ میں جل جاؤ گے
چھوڑ دو پیار کا غم، بس کر دو
نقطہ چینی نہ کرو شعروں پر
معتبر ہے یہ قلم، بس کر دو

0
4