| دل تھا آغوش غفلت کا پالا ہوا |
| رحمت حق سے اس میں اجالا ہوا |
| کیا خبر کب کہاں کس پہ مر جاۓ یہ |
| عشقِ سرور نے دل ہے سنبھالا ہوا |
| ان کے در پر جھکایا ہے سر جس نے بھی |
| وہ زمانے میں ہر غم سے بالا ہوا |
| آپ کی یاد راحت بھی، رحمت بھی ہے |
| آپ کی یاد سے دل نرالا ہوا |
| جب کبھی رنگ دنیا میں کھویاعتیق |
| یاد محبوب سے ہی ازالہ ہوا |
معلومات