سجے من کے گلشن سجے دو جہاں
نبی آئے دنیا میں آخر زماں
زمیں پیر چومے فدا ہے فلک
حبیبِ خدا ہیں بڑے مہرباں
ہے کونین پیاری خوشی میں تمام
لدے ہیں گلوں سےحسیں گلستاں
یہ مستی چرح کی ہے میلاد سے
ہیں کوکب کی چالیں نبی سے رواں
بنے دو سریٰ مصطفیٰ کے لئے
اُنہی سے کراں تک دہر ضوفشاں
اِدھر کاٹے انگلی فلق پر بدر
اُدھر کاٹیں یوسف حسیں انگلیاں
ہیں محمود سرور نبی دلربا
رکھے فیض جن کا ضیا کہکشاں

0