| خوشی کے ہیں سارے سماں مصطفیٰ سے |
| منور یہ ہستی زماں مصطفیٰ سے |
| خبر دی نبی کی ہمیں کبریا نے |
| دہر میں احد کا بیاں مصطفیٰ سے |
| ورودِ نبی سے ضیا دونوں عالم |
| زمانے کو حاصل ہے جاں مصطفیٰ سے |
| بتایا خدا نے یہ محبوب میرے |
| چلے جامِ وحدت یہاں مصطفیٰ سے |
| مزین لگے عرشِ اعلیٰ نبی سے |
| دہر کا حسیں ہر کراں مصطفیٰ سے |
| ہیں نورِ نبی سے یہ اُجلے اُجالے |
| ہوئے سیدھے رستے عیاں مصطفیٰ سے |
| بنے اُن کے انوار مبدا خلق کا |
| ہے محمود گردوں رواں مصطفیٰ سے |
معلومات