خوشی کے ہیں سارے سماں مصطفیٰ سے
منور یہ ہستی زماں مصطفیٰ سے
خبر دی نبی کی ہمیں کبریا نے
دہر میں احد کا بیاں مصطفیٰ سے
ورودِ نبی سے ضیا دونوں عالم
زمانے کو حاصل ہے جاں مصطفیٰ سے
بتایا خدا نے یہ محبوب میرے
چلے جامِ وحدت یہاں مصطفیٰ سے
مزین لگے عرشِ اعلیٰ نبی سے
دہر کا حسیں ہر کراں مصطفیٰ سے
ہیں نورِ نبی سے یہ اُجلے اُجالے
ہوئے سیدھے رستے عیاں مصطفیٰ سے
بنے اُن کے انوار مبدا خلق کا
ہے محمود گردوں رواں مصطفیٰ سے

0
1
7
حاصلِ کلام (Deep Synthesis)
یہ پوری غزل دراصل تین سطحوں پر کام کرتی ہے:
1. ظاہری سطح : نبی ﷺ → ہدایت، نور، خوشی
2. باطنی سطح : نبی ﷺ → روحانی زندگی، معرفت، توحید
3. صوفیانہ سطح: نبی ﷺ → کائناتی مرکز (cosmic محور)
(لیکن یہ تعبیر نصِ قطعی نہیں بلکہ عرفانی ہے)

0