| ہم نے کب اپنی کوئی بات بھی منوانی ہے |
| تم سے پوشیدہ کہاں اپنی پریشانی ہے |
| جاگنا پڑتا ہے ریوڑ کی حفاظت کے لیے |
| اتنی آسان کہاں بھیڑوں کی نگہبانی ہے |
| شہر سو جائے تو دیوار سے پوچھو جا کر |
| کس کے سائے میں یہاں رات کی ویرانی ہے |
| پوچھنا یہ بھی کہ سورج کی ضیا کس کے لیے |
| کس کے حصے میں فقط دھوپ کی عریانی ہے |
| پوچھنا یہ بھی کہ کس لب پہ کوئی حرفِ حق ہے |
| کیا یہاں اب بھی کوئی رسمِ غزل خوانی ہے |
| ہم نے ہر زہر کو "عامر"ؔ جو پیا ہے ہنس کر |
| ہم نے بھی کون سی دنیا کی سنی مانی ہے |
معلومات