کسی نے مجھ سے کبھی اپنے دکھ چھپائے نہیں
میں ان کی آنکھ سے ہر اضطراب پڑھتا رہا
وہ اپنے زخم دکھاتے رہے مجھے، اور میں
خود اپنے زخم چھپاتا رہا، سنبھلتا رہا
مرے سکوت کو سب نے مری رضا سمجھا
مری ہنسی کو مرے حال کی خبر جانا
میں اپنی ذات کی خاطر کبھی نہ بول سکا
سو میری چپ کو زمانے نے معتبر جانا
پھر ایک روز میں اپنی ہی بات کہنے لگا
مجھے تو اپنی ہی آواز اجنبی سی لگی
وہ لوگ حیرت سے تکتے رہے مری جانب
کہ جیسے کوئی شناسا زباں بدلنے لگا
عجیب جرم تھا، جس کا نہ کوئی مجرم تھا
عجیب زخم تھا، جس کی نہ تھی کوئی فریاد
میں جس کو اپنے تحمل کا نام دیتا رہا
وہ دوسروں کا یقیں تھا کہ میں کبھی نہ کہوں

0
3