تَمَنَّا ہے جَب اِس دُنْیا سے رُخْصَت ہو کے جاتے ہوں
زَباں پر یا مُحَمَّد، یا مُحَمَّد گُنگُناتے ہوں
مَدینے کی ہَوا دامَن میں یوں آ کر سَما جائے
ہم آنکھیں بَند کر کے رَوْضَۂ اَقْدَس پہ جاتے ہوں
نَصیب اَیسا ہو مَحْشَر میں نَظَر وہ رُوبرو آئیں
ہم اُن کے دامَنِ رَحْمَت میں چُھپ کے مُسکراتے ہوں
کریں جب ذِکْرِ آقا سے مُعَطَّر آخِری سانسیں
دُرودوں کے چراغوں سے اَندھیرے جَگْمَگاتے ہوں
کَرَم کی چھاؤں میں ڈوبے ہوئے ہوں دَرد کے لَمحے
غَموں کے سارے صَحرا آپ ہی گُلشن بناتے ہوں
پَریشانی کا عالَم ہو بروزِ حَشْر جب ہر سُو
ہمیں آقا شَفاعَت کے لیے خُود ہی بُلاتے ہوں
عَتیقؔ اَپنا یہی سَرمایۂ ہَسْتی رہے ہر دَم
نَبی کا نامِ نامی ہم سَدا ہی گُنگُناتے ہوں

0
6