| وہ خود ہی آ گئے اک روز دل منانے کو |
| میں سوچتا ہی رہا تھا انہیں بلانے کو |
| وہ میری بات پہ ہنس کر یہ کہہ گئے مجھ سے |
| کوئی بہانہ تو ڈھونڈو ہمیں ستانے کو |
| ذرا سی دیر کو بیٹھے تھے پاس آ کر وہ |
| پھر ایک عمر لگی وہ گھڑی بھلانے کو |
| ملی خوشی تو سبھی سے خبر چھپائی تھی |
| انہیں پکارا تھا میں نے وہ دن منانے کو |
| بہت سنبھال کے رکھا تھا دل کو برسوں سے |
| وہ ایک شخص ہی کافی تھا آزمانے کو |
| کبھی جو ہاتھ بڑھایا تو یوں لگا مجھ کو |
| کہ مل گیا ہے کوئی عمر بھر نبھانے کو |
| وہ پوچھ بیٹھے کہ پھر کب ملو گے تم، شاہدؔ |
| میں لفظ ڈھونڈتا ہی رہ گیا بتانے کو |
معلومات