بات بے بات یہاں دل کو پریشان نہ کر
اپنی تقدیر کو حالات کا عنوان نہ کر
عشق وہ آگ ہے جو روح کو روشن کر دے
اس کو لفظوں کی نمائش کا قلمدان نہ کر
جو ترے ساتھ کھڑا ہے وہ ترا اپنا ہے
ہر کسی شخص کو دنیا میں پشیمان نہ کر
زندگی نام ہے گر گر کے سنبھل جانے کا
اپنی ٹھوکر سے مقدّر کو بیابان نہ کر
جس کے چہرے پہ زمانے کے الم دِکھتے ہوں
اس کے زخموں کا جہاں بھر میں تُو اعلان نہ کر
بات سچی بھی ہو لہجہ بھی محبت والا
حق کی خاطر کسی انسان کو حیران نہ کر
جو ملا بانٹ بھی اس کو تو ہے دولت تیری
اپنے ہاتھوں کو فقط اپنا نگہبان نہ کر
خود کو پہچان کہ تو خاک نہیں راز ہے تو
اپنی ہستی کو زمانے سے ہرا سان نہ کر
دور منزل ہے مگر شوقِ سفر زندہ رکھ
کون کہتا ہے کہ رستہ ذرا آسان نہ کر
جاری رکھّے جو اندھیروں میں بھی رستے کی تلاش
طارِق اُس رستے پہ منزل ہی کا ارمان نہ کر

0
3