| تمہارے ساتھ ہر اک دن نیا زمانہ لگے |
| تمہارے بن یہی دنیا کوئی ویرانہ لگے |
| کبھی جو ہاتھ مرا تھام لو سرِ بازار |
| تمام شہر مجھے اپنا آشیانہ لگے |
| تمہارے ساتھ جو خاموش بیٹھ جاؤں کبھی |
| وہ ایک لمحہ مجھے عمر کا خزانہ لگے |
| کبھی جو چائے پہ بیٹھیں تو گفتگو نہ رکے |
| تمہارے ساتھ تو ہر بات اک بہانہ لگے |
| تمہاری ضد کے مقابل میں ہار جاؤں اگر |
| تو ہارنا بھی مجھے آج فاتحانہ لگے |
| مرا جو نام پکارو کبھی محبت سے |
| تو ایک لفظ بھی مجھ کو کوئی ترانہ لگے |
| یہ عمر ڈھل بھی چلے، شاہدؔ آرزو ہے یہی |
| تمہارے ساتھ بڑھاپا بھی عاشقانہ لگے |
معلومات