ہمیں تو اپنی تباہی کا بھی ملال نہ تھا
عجیب شخص تھے، جینے کا کچھ خیال نہ تھا
ہمیں تو عشق سے پہلے بھی ایک وحشت تھی
سو اپنی ذات کا یہ پہلا اختلال نہ تھا
ہم اپنی ذات سے بیزار تھے شروع سے ہی
تمہارا عشق تو ہم پر کوئی وبال نہ تھا
ہم اپنے آپ کو آزاد ہی سمجھتے رہے
عجیب قید تھی، جس میں کوئی بھی جال نہ تھا
وہ میرے پاس تھا، لیکن عجب تعلق تھا
ہمارے بیچ جدائی تھی، کچھ وصال نہ تھا
وہ جس کے سامنے ہم نے انا گنوا ڈالی
اسی کو اپنے بچھڑنے کا احتمال نہ تھا
وہ ایک شخص جو بچھڑا تو یہ خبر بھی ہوئی
ہمارے پاس محبت تھی بس کمال نہ تھا
تمہارے بعد بھی دنیا سے واسطہ تو رہا
مگر کسی سے تعلق کا اب خیال نہ تھا
ہم اپنے آپ کو سب سے چھپا کے رکھتے تھے
عجیب بات کہ خود سے کوئی سوال نہ تھا
خدا کی ذات پہ ہم نے سوال اٹھائے بہت
مگر خود اپنی حقیقت پہ اک سوال نہ تھا

0
3