| وہ خوابِ وصل کی بنیاد پر جو سجتے ہیں |
| وہ دل کبھی تو تماشائے ہجر بنتے ہیں |
| ہزار بار جنہیں راستوں نے لوٹا ہو |
| وہی مسافر اب اُمیدِ نو سے ڈرتے ہیں |
| پلٹ کے دیکھنے والی وہ آنکھ کیا جانے؟ |
| کہ پیچھے موڑ پہ کتنے چراغ بجھتے ہیں |
| وفا کے نام پہ ملتی ہے بس جفا جن کو |
| وہ اعتبار کی چوکھٹ پہ سر پٹکتے ہیں |
| خطائیں اپنی ہی ہوتی ہیں ہر فسانے میں |
| ہم اپنے واسطے خود ہی سراب چُنتے ہیں |
| دلوں کے درز سے دکھتی ہے جو یہ تنہائی |
| اسی کے سائے میں کتنے ہی زخم پلتے ہیں |
| پرانی دھند سے یادوں کی یہ ہوا جو ہے |
| تو بیتے وقت کے سارے غبار اڑتے ہیں |
| تمام عمر کی آوارگی مگر عادل |
| وہ اب سکون کی بستی تلاش کرتے ہیں |
معلومات