دل نے جب درد محبّت کا دیا جانا ہے
تب کہیں جا کے حقیقت کا پتا جانا ہے
تیری آنکھوں میں جو دیکھا تو کھلا رازِ وجود
ایک ہی نور سے عالم کو سجا جانا ہے
وصل کی شب تھی کہ اک بحرِ فنا کا منظر
میں نے خود کو تری ہستی میں بہا جانا ہے
عشق وہ آگ ہے جس آگ نے جل کر اے دوست
برف سا نفس بھی آخر کو جلا جانا ہے
تجھ کو دیکھا تھا کبھی ایک حسیں صورت میں
پھر تو ہر شے میں فقط تیرا پتا جانا ہے
تیرا در چھوڑ کے جاؤں تو کہاں جاؤں گا
ہر سفر آخرِ کار ایک ہی جا جانا ہے
دل کی ویران گلی میں تری آہٹ کے طفیل
اک نئے شہرِ تمنّا کو بسا جانا ہے
تیری خوشبو سے معطّر ہیں مرے خواب و خیال
ذکر ہر سانس نے کیا صرف تِرا جانا ہے
میں بھی قطرہ تھا مگر عشق نے وسعت دے کر
مجھ کو دریائے حقیقت میں ملا جانا ہے
تیرے جلووں کی طلب تیرے کرم کی امید
طارِق اس راہ میں بس دل ہی لٹا جانا ہے

0
5