سجا ہے آنکھ پر جادو عجب نظاروں کا
حسین عکس ہے دریا میں چاند تاروں کا
​سنائی دیتی ہے کلیوں کی مسکراہٹ بھی
عجب ہے شور گلستاں میں ان اشاروں کا
​ہری قبائیں پہن کر کھڑے ہیں کوہ و دمن
بچھا ہے فرش زمیں پر حسیں بہاروں کا
​صبائے گل کے یہ جھونکے سنا رہے ہیں غزل
چلا ہے دور فضاؤں میں نغمہ باروں کا
​سکوتِ شب میں ستاروں کی لو یہ کہتی ہے
بنا ہے نور سے پیکر ان استعاروں کا
​سحر کی پہلی کرن جب گلوں کو چھوتی ہے
امڈتا آتا ہے اک سیل مشک باروں کا
​غمِ حیات کی تلخی بھی اب نہیں خالد
ملا ہے ساتھ ہمیں جب سے غم گساروں کا

0
5