| یہاں کسی کو کسی پر بھی اعتبار نہیں |
| عجیب شہر ہے، لوگوں کو خود سے پیار نہیں |
| تمام شہر کو معلوم ہے کہ قاتل کون |
| مگر کسی کو گواہی کا اختیار نہیں |
| کسی نے پوچھ لیا شہر میں ہے کون شریف |
| کسی بھی جرم میں اب تک جو گرفتار نہیں |
| غریب شخص پہ قانون سخت ہے صاحب |
| امیر شخص پہ قانون کا بھی بار نہیں |
| وہ ظلم دیکھ کے خاموش رہنے والے لوگ |
| یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس کے ذمہ دار نہیں |
| جو ظلم کرتا ہے، وہ معتبر بھی ٹھہرا ہے |
| جو ظلم سہتا ہے، اس کا کوئی وقار نہیں |
| وہ اپنے آپ کو بازار میں تو لے آئے |
| کسی کو آج ضمیروں سے سرو کار نہیں |
| وہ ایک شخص جو سچ بولنے پہ قتل ہوا |
| تمام شہر میں اک بھی تو سوگوار نہیں |
| ہر ایک شخص ہے معصوم اپنی نظروں میں |
| عجیب شہر ہے، اک شخص شرم سار نہیں |
معلومات