کیسی نحوست دیکھ چمن پر طاری ہے
پھولوں پر برسات کی رُت بھی بھاری ہے
دنیا میں بھی گندم ہی کے پھندے ہیں
بھوک مٹانے میں کتنی دشواری ہے
غربت اپنے ساتھ مصایب لاتی ہے
کچھ تو ریاست کی بھی ذمہ داری ہے
تبدیلی کے نام پہ ملک تباہ کیا
یہ طبقہ تو شرم و حیا سے عاری ہے
دین کو بیچا دین کے ٹھیکے داروں نے
پیٹ کی خاطر رب سے کی غداری ہے
ایک نئی امید جگاتی ہے ہر روز
جیسی بھی ہے زیست ہمیں تو پیاری ہے
مردہ نہیں اسے زندہ مانا جاتا ہے
مر کر بھی گر فیض کسی کا جاری ہے

0
3